Showing posts with label قوم. Show all posts
Showing posts with label قوم. Show all posts

Saturday, September 20, 2014

امن و امان بمقابلہ اسلامی عقائد islami aqeedah vs peace

امن و امان بمقابلہ اسلامی عقائد

آج  وطنِ عزیز میں اور قریب ہر مسلم ملک میں امن و امان کا جو مسٔلہ ہے‘ دہشت گردی و خون خرابہ جو عام ہے وہ کس کا پیدا کردہ ہے ؟ کیا یہود گُس آئیے ہیں یا نصرانی  و ہنود نے یہ انارکی پھیلا رکھی ہے ؟  اگر یہ ان کی سازشوں کا نتیجہ ہے تو بھی اِن سازشوں  میں ملوث ہونے والے کوئی غیر تو نہیں، مسلمان ہی ہیں۔

یہ کون ہیں جو مسلم ملک کے مسلم معاشرے میں فساد برپا کر رہے ہیں‘ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں اور مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رہے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو مسجدوں‘ اسکولوں‘ بازاروں‘ چوراہوں وغیرہ پہ خود کش حملہ و دھماکہ  کرکے آنِ واحد میں سیکڑوں مسلمانوں کی جان لے لیتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو اپنے ہی لوگوں کوٹارگیٹ کلنگ پہ مامور کیا ہوا ہے اور یہ کون ہیں جو اُن کے اشاروں  پہ ٹارگیٹ کلنگ کرتے پھرتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو نئی نسل کے ہاتھوں میں آتش گیر اسلحہ  تھما کر دہشت گردی کیلئے انہیں ملک کے گلی کوچوں میں آوارہ کتوں کی طرح چھوڑ دیا ہے ؟
یہ کون ہیں جو کلاشنکوف ‘ پستول،  دستی بم وغیرہ لئے پھرتے ہیں اور آنِ واحد میں بچہ بوڑھا جون کسی بھی مسلمان کو ان  کے عزیزوں کے سامنے  بھُون ڈالتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو بنکوں‘ دوکانوں و مکانوں میں دن دھاڑے ڈاکہ ڈالتے ہیں اور مزاحمت کرنے ولوں کو قتل کر دیتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو گلی کوچوں‘ سڑکوں پہ و چوراہوں میں دن دھاڑے لوگوں کو لُوٹتے ہیں اور ذرا سی مزاحمت کرنے پر انہیں بے دریغ قتل کر دیتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو بسوں پہ لوگوں کے موبائل فون اور پرس چھینتے ہیں اور مزاحمت کرنے والوں کو بھری بس میں گولی مار دیتے ہیں ؟
یہ کون لوگ ہیں جو اپنی ماں بہن ہونے کے باوجود دوسروں کی ماں بہن بہو بیٹیوں کو سر راہ چھیڑتے ہیں اور ان کی عزت  تارتار کرتے ہیں‘ جوان بھائی اور بوڑے باپ کے سامنے جوان بہن و بیٹی کی ریپ / عصمت دری کرنے سے نہیں چُوکتے ؟   
یہ کون لوگ ہیں جو اپنی نفس کو آسودہ  کرنے کے لیے ہر طرح کی کرپشن میں ملوث ہیں، رشوت خوری،  چوری،  ڈکیتی،   شراب نوشی،  بے حیائی، فحاشی، عیاشی،  زناکاری،  بدکاری وغیرہ  وہ کون سی برائی ہے جو یہ لوگ نہیں کرتے ؟
عجب بات ہے۔
یہ یہود و نصاریٰ یا ہنود نہیں ہیں۔ یہ باہر سے آنے والے ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ یہ سب باہر سے پل بڑھ کر‘ باہر سے ٹرینگ لے کر ہمارے ملک میں دہشت گردی کرنے نہیں آئے۔ یہ اپنے ملک کے ہی لوگ ہیں۔
افسوس کہ
یہ سب بھی مسلمان ہیں‘
یہ سب ہی مسلم ملک میں مسلمانوں کے گھروں میں  پیدا ہونے والے مسلم گھرانے اور مسلم معاشرے میں پروان چڑھنے والے مسلمان  ہیں۔
کیا ان سب کو اسلام کی بنیادی عقائد توحید‘ رسالت و آخرت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ؟
جی اصل مسٔلہ ہی یہی ہے۔
مسلم ملک و معاشرے اور گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اِن عقائد  کے بارے میں انہیں صحیح علم نہیں دیا گیا اور نہ ان میں عقیدہ و ایمان کی پختگی ہے‘ نہ انہیں اللہ کا خوف ہے‘ نہ ان کا آخرت پر ایمان ہے اور نہ ہی یہ رسول ﷺ کو ماننے و اتباع کرنے والے ہیں۔
یہ پیدا تو فطرت اسلام  پہ ہوئے تھے۔ جیسا کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’  ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔‘‘
آج مسلمانوں میں بھی یہی ہے۔ پاک دل لے کر فطرت اسلام  پر پیدا ہونے والے بچے کو اس کے والدین شرک و بدعت والا ماحول دیکر اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا کرکے اُس کو فطرت اسلام سے دور کر دیتے ہیں۔
یوں آج کے مسلم ملک‘ معاشرے و گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اکثریت شرک ہی میں مبتلا ہیں۔
اور آج اِس اُمت میں جو سب سے بڑا فساد ہے وہ شرک و بدعات کا فساد ہے۔
جب شرک و بدعات کا فساد آتا ہے تو اس میں دوسرے سارے فسادات خود بخود سر اٹھا لیتے ہیں‘ یقین نہیں تو اقوامِ عالم کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے، نوح علیہ السلام  کی قوم میں میں  بُت پرستی کی ابتداء سے لیکر آج تک جو بھی قوم شرک میں مبتلا ہوئی انہیں فسادات نے جکڑ لیا۔
آج اسلام کی بنیادی عقائد توحید‘ رسالت و آخرت سے ناآشنا مسلمانوں میں نہ ہی اللہ کا خوف ہے اور نہ ہی آخرت میں اُس جبار و قہار کی پکڑ کا کوئی ڈر ہے تو ایسے لوگ دنیا میں فساد  ہی مچائیں گے،  جسے ہم ہر مسلم ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ فساد ہی فساد ہے اور امن و امان مفقود ہے۔
حل کیا ہے۔
فسادات کیسے ختم ہوں‘ امن و امان کیسے قائم ہو۔
مسلم ملک و معاشرے میں دہشت گردی نہ ہو‘ مسلمان فساد میں نہ پڑیں‘ مسلمان مسلمان کا خون نہ بہائیں، ایسا کیسے ممکن ہو۔
ان تمام فسادات کا‘ ان تمام برائیوں کا‘ امن و امان بحال کرنے کا حل ایک ہی ہے اور وہ ہے عقائد کی درستگی۔  لوگوں میں اسلام کی بنیادی عقائد توحید‘ رسالت و آخرت کی پختگی کے بغیر امن و امان کا قیام ممکن نہیں۔
جب ہمارے عقائد درست  ہو جائیں گے تو ہمارے دلوں میں اپنے رب کریم کی اہمیت ہوگی ‘ اپنے رب کریم کی محبت ہوگی اور اپنے رب کریم کا خوف ہوگا اور ہم اپنے رب کریم کی نافرمانیوں سے بچتے ہوئے اللہ کی زمین میں کوئی فساد برپا نہیں کریں گے اور ہمارے معاشرے میں امن قائم ہوگا۔
فسادات ختم کرنے اور  امن و امان قائم کرنے کیلئے اتنا یقین ہی کافی ہے کہ اللہ سمیع‘ علیم و بصیر  ہے۔
کیا ہم سب نہیں جانتے کہ
إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
بے شک الله سننے والا جاننے والا ہے۔
إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ   
بیشک اللہ دلوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
إِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے ۔
إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے ۔
جو بندہ اپنی رب کو پہچانتا ہو‘ اپنی رب کی معرفت رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ جس بندے کو یہ یقینِ کامل ہو جائے کہ اس کا رب اس کی ہر بات ‘ ہر سرگوشی کو ہر گھڑی ہر آن  کوئی  سننے و جاننے والا ہے اور خبر  رکھنے والا ہے‘ یہاں تک کہ اس کی دل میں چھپی باتوں کو بھی  وہ خوب جانتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ اس کی ہر چھوٹے بڑے کھلے چھپے عمل کا ریکارڈ بھی  ر کھا جا رہا ہے  بھلا وہ اپنے رب کی دی ہوئی مہلت‘  قدرت و آزادی  سے غفلت  کیوں برت سکتا ہے‘  اپنے رب کی نافرمانی کی باتیں کیسے سونچ سکتا ہے‘  گناہ کرنا تو دور کی بات ہے وہ تو معصیت کی باتوں کو اپنے دل میں جگہ بھی نہیں دے سکتا کیوں کہ اسے معلوم ہے اس کی دل کی  باتیں جاننے والا کسی بھی لمحے اس کی پکڑ کر سکتا ہے اور اس کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ﴿١٢﴾ سورة البروج
یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
اور پھر جس بندے کا عقیدۂ آخرت  پر ایمان اور یقین ہوگا۔
جس کا یقین ہوگا کہ موت کے بعد اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے اچھے برے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور پھر جنت یا جہنم میں ایک ہمیشہ کی زندگی ہے اور جسے دنیا میں عذاب میں مبتلا اپنے جیسے دوسرے بندوں کو  دیکھ کر دنیا سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ بھیانک جہنم کی عذاب کا احساس ہو جائے  اور جس کے دل میں اللہ کی سب سے بڑی نعمت جنت کو حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو جائے،   کیا وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے دنیا میں فساد برپا کرے گا یا امن و امان کا مسٔلہ پیدا کرنے کی کبھی سونچے گا ؟
اور جب عقیدۂ رسالت کا علم ہوگا اور اس بات پر پہختہ ایمان و یقین ہوگا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم کی سچی پیروی کئیے بغیر نہ ہی  ہماری دنیا ہی سنور سکتی ہے اور نہ ہم آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم سے سچی محبت پیدا ہوگی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم  کا اتباع کرنا آسان ہوگا پھرہم بدعات کو چھوڑ کر سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم کی پیروی کرنے والے ہو جائیں گے۔ جب ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم  نے  ہنسی مذاق میں اپنے ساتھی کو پریشان کرنے والے  سے فرمایا :
                  ’’ ایک مسلمان کیلئے حلال نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو مضطرب کرے۔‘‘
یا اونگھتے ہوئے ساتھی کے ایک ترکش مذاقاً اڑا لینے والے سے  فرمایا:
’’ کسی آدمی کیلئے حلال نہیں کہ وہ ایک مسلمان کو پریشان کرے۔‘‘
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور اسے مومن بھی اسی وجہ سے کہا جا تا ہے کہ وہ امن پسند اور امن دینے والا ہو تا ہے ۔
رسو ل صلی اﷲ علیہ وسلمنے فرماتے ہیں کہ مومن وہ ہے جس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں
پیغمبر امن و سلامتی نے فرمایا
جس آدمی نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کیا اس پر اﷲ تعالیٰ کے فرشتے لعنت کرتے ہیں جب تک وہ باز نہیں آتا اس پر لعنت ہوتی رہتی ہے ۔
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جان و مال اور عزت کی حفاظت کے حوالہ سے فرمایا بے شک تمہارے خون ،مال اور عصمت اس طرح حرمت والے ہیں جس طرح یہ دن اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت والا ہے ۔
لہذا آپ ﷺ کو ماننے والا‘ آپ ﷺ پر جا ن نچھاور کرنے والا ‘ آپ ﷺ کی اتباع کرنے والا اور  آپ ﷺ  تعلیمات کوجاننے اور عمل کرنے والا

مسلمان مسلمان کو کیوں کرپریشان کرے گا ؟
مسلمان مسلمان کو کیوں کر قتل کرے گا ؟
مسلمان مسلمان کا چین و سکون کیوں غارت کرے گا ؟
مسلمان مسلمان کا مال ناجائز کیوں ہڑپ کرے گاِ ؟
مسلمان مسلمان کی بہن بہو بیٹی کی عزت کیوں تار تار کرے گا ؟
مسلمان کرپشن  ‘ بد عنوانی و رشوت خوری کیوں کرے گا ؟
مسلمان  چوری، ڈکیتی ‘ قتل و غارت گری کیوں کرے گا ؟
مسلمان  بے حیائی‘ فحاشی، زناکاری، بدکاری وغیرہ کا کام کیوں کر کرے گا ؟

ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہمارے عقائد درست ہو جائیں ‘ ہمارا ایمان و یقین پختہ ہو جائے‘  ہم پورے کے  پورے اسلام میں داخل ہوجائیں‘ اللہ کے فرمانبردار اور نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم   کے اطاعت گزار بن جائیں اور  ہم مسلمان بن کر جینے والے اور مسلمان بن کر مرنے والے بن جائیں۔

آج دنیا کی ترقی یافتہ مغربی ممالک میں جدید ترین کیمرے و سینسر اور راڈار اور تمام جدید ترین وصائل سے مالامال پولس اور سیکوریٹی اہل کاروں کی مدد سے فسادات ختم کرنے کی سعی کرنے کے باوجود وہاں بھی ایسا نہیں کہ ایک اکیلی عورت دور دراز کا سفر کرے اور اسے سوائے اللہ کے خوف کے اور کوئی خوف نہ ہو جب کہ اسلام محض عقائد کی درستگی کی بنیاد پر ایسا امن و امان والا معاشرہ قائم کرکے ثابت کر چکا ہے۔

صحیح بخاری میں عدیؓ بن حاتم کی روایت سے ہے کہ حضورؐ نے فرمایاکہ 
 ’’ بہت جلد امن کا ایسا دوربھی آنے والاہے جب کجاوے میں ایک اکیلی خاتون حیرہ (اعراق ‘ بہت دوردراز علاقہ) سے کعبہ کے طواف کے لئے سفرکرے گی اورمکہ پہنچ کرکعبے کاطواف کرے گی مگراُسے سوائے اللہ کے خوف کے اورکوئی خوف نہ ہوگا۔( عدی کہتے ہیں کہ بعد میں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ایک اکیلی عورت حیرہ  سے آتی ہے ، کعبہ کاطواف کرتی ہے اوراللہ کے سوا اس کوکسی کاڈرنہیں ہوتا) ۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر3595)۔

ماضی کی طرح آج بھی اسلام کی ہی بنیاد پرملک و ملت اور ہر شہر و بستی میں ایسا  امن و امان قائم ہو سکتا ہے کہ ایک اکیلی عورت کو بھی سوائے اللہ کے کسی کا ڈر و خوف نہ ہوگا لیکن اس کیلئے ضروری ہے عقیدے کی اصلاح۔

قوموں کی تاریخ میں ہمیشہ سے سنت اﷲ یہ رہی ہے جب بھی زمین پہ فسادات عروج پہ پہنچی‘ اللہ رب العزت نے ابنیاء علیہ السلاۃ و السلام کے ذریعے اپنے بندوں کی عقیدے کی اصلاح کروایا۔ سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے شروعات میں عقیدے کی اصلاح کوہی اپنی محنت اور کاوشوں کا مرکز بنایا۔ قرآن مجید میں بھی زیادہ تر مضامین عقائد سے متعلق ہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اب کسی نبی کو نہیں بھیجے گا‘ اب یہ کام امت محمدیہ ﷺ کو ہی کرنا ہے۔
لہذا آئیے  عقیدے کی اصلاح سے مسلم  معاشرہ کی  اصلاح کیجئے۔....

Wednesday, May 14, 2014

لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ


ہر دور میں حکمراں اپنے مجرموں کو قید کرنے کیلئے بد ترین قید خانے بناتے رہے ہیں اور اِس دور کے گوانتاناما بے ‘ ابو غریب جیل ‘ بگرام جیل جیسے نہایت ہی بھیانک اور بد ترین قید خانوں یا جیل خانوں کے نام ہم سب نے سن رکھے ہیں۔ لیکن سائنس و ٹیکنولوجی کے اس دور میں کیا کویٴ ایسا قید خانہ بنا سکتا ہے جو مچھلی کے پیٹ میں ہو اور مچھلی قیدی کو لئے ہوئے ہزاروں میٹر پانی کے نیچے چلی جائے جہان اندھیرا ہی اندھیرا ہو‘ رات کا اندھیرا ‘ سمندر کی گہرایٴ کا اندھیرا اور پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور جہاں نہ ہوا ہو نہ آکسیجن لیکن قیدی پھر بھی صحیح سلامت اور زندہ رہے۔



جی کویٴ نہیں ۔ ایسا قید خانہ صرف ہمارا رب ہی بنا سکتا ہے کیونکہ

أَنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا

اللہ ہر چیز قدرت رکھتا ہے اور یہ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو   (عراق)  موصل کے علاقے نینویٰ والوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ آپ  اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے  لیکن آپؑ کی قوم آپؑ کی تکذیب  کرتی  رہی اور کفر و عناد پر اڑی رہی۔ ایک مدت کی تبلیغ کے بعد  جب آپؑ   بالکل مایوس ہوگئےکہ قوم ایمان لانے والی نہیں اور عذابِ الٰہی کا وقت قریب آگیا تو آپ اپنی قوم کو تین دن کے بعد عذابِ الٰہی کی دھمکی دے کر  اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہاں سے نکل گئے اور مشکل سے دوچار ہوئے۔   
 آپؑ  عذابِ الٰہی کے خوف سےاپنے بارے میں حکم الٰہی کے انتظار میں صبر نہیں کیا ۔

لہذا اللہ تعالیٰ نے آپؑ   کو   مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ ﴿٤٨﴾ سورة القلم

پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔

ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ ….سورة الأنبياء

مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔

لیکن حضرت یونس علیہ السلام کو جوں ہی احساس ہوا کہ اُن سے غلطی ہو گئی ہے ، انہوں نے اپنے آپ کو ملامت کیا اور مچھلی کے پیٹ کے اندھرے قید خانے سے اللہ کو پکارا ۔

فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ﴿٨٧﴾ سورة الأنبياء 

بالآ خر وه اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں اپنے نفس پر ظلم کیا۔

نوٹ کیجئے حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ کی قید خانہ سے رہائی کیلئے توحیدِ باری تعالیٰ کا ہی سہارا لیا اور اللہ کی ہی پاکی بیان کی ۔۔۔۔ کسی نبی ‘ ولی یا اللہ کے کسی اور برگزیدہ بندے کا وسیلہ نہیں  پکڑا۔

حضرت یونس علیہ السلام نے کہا ’ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ ‘ یعنی ’ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا اللہ ‘ جو کہ کلمہٴ توحید ہے اور کہا ’ سُبْحَانَكَ ‘ یعنی ’ سبحان اللہ ‘ جو کہ ا لله تعالی کی تسبيح و تنزيہ ہے اور  پھر ’  إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ‘  اپنے غلطیوں کا اقرار و اعتراف اِن لفظوں میں کیا کہ ’ بیشک میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔۔ اس جملے میں اِن باتوں کا اعتراف ہے کہ اے اللہ میں نے تیرے حکم کا انتظار نہ کرکے تیرا کچھ نہیں بگاڑ ا اور مجھے اس قید میں ڈال کر تو نے مجھ پر کویٴ ظلم نہیں کیا کیونکہ تو اس سے پاک ہے کہ کسی پر ظلم کرے‘ یہ تو ہم انسان ہی ہیں جو جلد باز ہیں نا شکرے ہیں اور بے صبرے ہیں اور اپنے ہی جان پر ظلم کرنے والے ہیں۔

تب ہمارے غفور الرحیم رب نے نہ صرف اپنے نبی کی دعا قبول کی اور انہیں غم (قید) سے نجات بخشی بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ جو بھی مومن بندہ یہ دعا مانگے گا ‘ اُسے نجات ملے گی:

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ ﴿٨٨﴾ سورة الأنبياء

پس ہم نے ان کی دعا قبول فرما لی اور ہم نے انہیں غم سے نجات بخشی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں،

رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
ذوالنون ( یعنی یونس علیہ السلام ) کی وہ دعاء جو انہوں نے مچهلی کے پیٹ اندر کی تھی (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ) جو مسلمان اپنے کسی بهی مقصد کے لئے ان کلمات کے ساتھ دعاء کرے گا اللہ تعالی اس کو قبول فرمادیں گے ۔( رواه الترمذي والحاكم )





یہ دعا بھی ہے اور کلمہٴ توحید بھی ۔ اس کی برکتوں سے ایک طرف حضرت یونس علیہ السلام ایک ایسی قید خانے (مچھلی کی پیٹ ) سے آزاد ہوئے جس کا تصور بھی کویٴ انسان نہیں کر سکتا تو دوسری طرف ان کی مشرک قوم بھی شرک کی ظلمتوں سے آزاد ہو یٴ اور ایک اللہ پہ ایمان لے آیٴ ‘ ایک اللہ کی بندگی میں داخل ہو گیٴ۔
انسانی تاریخ میں واحد قوم ہے جنہیں اللہ کا عذاب آنے کے بعد نجات ملی۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے:

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٩٨﴾ سورة يونس

پس کوئی بستی ایمان نہ ﻻئی کہ ایمان ﻻنا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس (علیہ السلام) کی قوم کے۔ جب وه ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لیے زندگی سے فائده اٹھانے (کا موقع) دیا۔

اگر کویٴ بندہٴ مومن اللہ کی وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہوئے اللہ سے اپنی مغفرت کا طلب گار ہو تو اُسے اس دعا کا سہارا لینا ہوگا۔ کیونکہ اس دعا میں ۔۔۔ کلمہ توحيد
( لا إله إلا أنت ) بھی ہے ...... تسبیح و تنزيہ ( سبحانك ) بھی ہے ...... اور استغفار  ( إنى كنت من الظالمين )  بھی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ :
میں تمہیں وہ چيز نہ بتاؤں کہ اگرکسی پر کوئ مصیبت اور آزمائش آجاۓ تو وہ اسے پڑھے تو اسے اس سے نجات مل جا ئے گی وہ یونس علیہ السلام کی دعا ہے ( لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین )۔ مستد رک حاکم اور صحیح الجامع ( 2605 ) میں بھی یہ حدیث ہے ۔


اس وقت پوری امت گوناگوں مصیبتوں‘ آزمائشوں اور پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے اور طرح طرح کے عذابات کا شکار ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ ہم سب اس دعا کی معنی مطلب کو سمجھیں
‘ 
کلمۂ توحید ’’ لا الہٰ الا اللہ محمدُ الرسول اللہ ‘‘ کی معنی مطلب سمجھیں‘ 
صرف اور صرف اللہ وحدہ‘ لا شریک  کو پکاریں‘ اسی سے فریاد کریں ‘ اسی سے دعا مانگیں۔
ایک اللہ کی بندگی میں آئیں۔
شرک و بدعات کی ہر فعل کو ترک کریں۔
اپنی کوتاہیوں پر نظر رکھیں۔
اور اِس دعا کو اپنی روزانہ کی دعاؤں میں شامل کریں تاکہ ہماری بھی بخشش ہو جائے اور اُمت بھی نجات پائے۔
اِس دعا سے قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے‘ قوم پر آیٴ ہویٴ عذاب ٹل جاتی ہے۔

اس دعاء کی کچھ خاصیات و فوائد


1.      الله تعالی کی توحيد ، الله تعالی کی تسبيح و تنزيہ ، اور إستغفار
لا إله إلا أنت = الله تعالی کی توحيد
سبحانك = الله تعالی کی تسبيح و تنزيہ
إنى كنت من الظالمين = إستغفار اور الله تعالی کے لیئے بندگی کا إعتراف
2.      صحیح حدیث میں ہے کہ جو مسلمان بنده کسی بهی مقصد کے لیے اس کے ساتھ دعاء کرے گا تو اس کی دعاء قبول ہوگی۔

3.      یہ مبارک دعاء قرآن مجید میں مذکور هے ، لہذا اس کے پڑہنے سے قرآن کی تلاوت کا ثواب بهی ملے گا۔

4.      یہ دعاء الله تعالی کے ایک جلیل القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام نے نے کی ہے اور اللہ تعالی نے قبول فرمائی ہے، لہذا ان کے لئے خاص تهی ، اور تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے ، پس جو بھی شرک سے براٗت اور اپنی گناہوں کے اقرار و پشیمانی کے ساتھ ان کلمات کے ذیعے اپنے لئے  دعا مانگے گا، اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے قبولیت کا وعدہ ہوچکا ہے (لیکن شرک سے براٗت   شرط ہے)۔


5.      صحیح حدیث میں ہے کہ اس دعاء میں الله تعالی کا اسم اعظم بهی ہے۔
 6.      بیماری میں چالیس مرتبہ یہ دعاء پڑہنے والا شخص اگر اسی بیماری میں فوت ہوجائے ، تو اس کو شہید کا أجر ملے گا اور اگر وه صحت یاب ہوجائے تو اس کے تمام گناہوں کو بخش دیا جائے گا۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں شرک سے براٗت اور اپنی گناہوں کے اقرار و پشیمانی کے ساتھ  اپنی ہر دعا میں " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ "  کو بھی شامل کرنے کی توفیق عطا کریں۔ آمین