Showing posts with label اسکول. Show all posts
Showing posts with label اسکول. Show all posts

Saturday, September 20, 2014

امن و امان بمقابلہ اسلامی عقائد islami aqeedah vs peace

امن و امان بمقابلہ اسلامی عقائد

آج  وطنِ عزیز میں اور قریب ہر مسلم ملک میں امن و امان کا جو مسٔلہ ہے‘ دہشت گردی و خون خرابہ جو عام ہے وہ کس کا پیدا کردہ ہے ؟ کیا یہود گُس آئیے ہیں یا نصرانی  و ہنود نے یہ انارکی پھیلا رکھی ہے ؟  اگر یہ ان کی سازشوں کا نتیجہ ہے تو بھی اِن سازشوں  میں ملوث ہونے والے کوئی غیر تو نہیں، مسلمان ہی ہیں۔

یہ کون ہیں جو مسلم ملک کے مسلم معاشرے میں فساد برپا کر رہے ہیں‘ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں اور مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رہے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو مسجدوں‘ اسکولوں‘ بازاروں‘ چوراہوں وغیرہ پہ خود کش حملہ و دھماکہ  کرکے آنِ واحد میں سیکڑوں مسلمانوں کی جان لے لیتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو اپنے ہی لوگوں کوٹارگیٹ کلنگ پہ مامور کیا ہوا ہے اور یہ کون ہیں جو اُن کے اشاروں  پہ ٹارگیٹ کلنگ کرتے پھرتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو نئی نسل کے ہاتھوں میں آتش گیر اسلحہ  تھما کر دہشت گردی کیلئے انہیں ملک کے گلی کوچوں میں آوارہ کتوں کی طرح چھوڑ دیا ہے ؟
یہ کون ہیں جو کلاشنکوف ‘ پستول،  دستی بم وغیرہ لئے پھرتے ہیں اور آنِ واحد میں بچہ بوڑھا جون کسی بھی مسلمان کو ان  کے عزیزوں کے سامنے  بھُون ڈالتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو بنکوں‘ دوکانوں و مکانوں میں دن دھاڑے ڈاکہ ڈالتے ہیں اور مزاحمت کرنے ولوں کو قتل کر دیتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو گلی کوچوں‘ سڑکوں پہ و چوراہوں میں دن دھاڑے لوگوں کو لُوٹتے ہیں اور ذرا سی مزاحمت کرنے پر انہیں بے دریغ قتل کر دیتے ہیں ؟
یہ کون ہیں جو بسوں پہ لوگوں کے موبائل فون اور پرس چھینتے ہیں اور مزاحمت کرنے والوں کو بھری بس میں گولی مار دیتے ہیں ؟
یہ کون لوگ ہیں جو اپنی ماں بہن ہونے کے باوجود دوسروں کی ماں بہن بہو بیٹیوں کو سر راہ چھیڑتے ہیں اور ان کی عزت  تارتار کرتے ہیں‘ جوان بھائی اور بوڑے باپ کے سامنے جوان بہن و بیٹی کی ریپ / عصمت دری کرنے سے نہیں چُوکتے ؟   
یہ کون لوگ ہیں جو اپنی نفس کو آسودہ  کرنے کے لیے ہر طرح کی کرپشن میں ملوث ہیں، رشوت خوری،  چوری،  ڈکیتی،   شراب نوشی،  بے حیائی، فحاشی، عیاشی،  زناکاری،  بدکاری وغیرہ  وہ کون سی برائی ہے جو یہ لوگ نہیں کرتے ؟
عجب بات ہے۔
یہ یہود و نصاریٰ یا ہنود نہیں ہیں۔ یہ باہر سے آنے والے ہمارے دشمن نہیں ہیں۔ یہ سب باہر سے پل بڑھ کر‘ باہر سے ٹرینگ لے کر ہمارے ملک میں دہشت گردی کرنے نہیں آئے۔ یہ اپنے ملک کے ہی لوگ ہیں۔
افسوس کہ
یہ سب بھی مسلمان ہیں
یہ سب ہی مسلم ملک میں مسلمانوں کے گھروں میں  پیدا ہونے والے مسلم گھرانے اور مسلم معاشرے میں پروان چڑھنے والے مسلمان  ہیں۔
کیا ان سب کو اسلام کی بنیادی عقائد توحید‘ رسالت و آخرت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ؟
جی اصل مسٔلہ ہی یہی ہے۔
مسلم ملک و معاشرے اور گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اِن عقائد  کے بارے میں انہیں صحیح علم نہیں دیا گیا اور نہ ان میں عقیدہ و ایمان کی پختگی ہے‘ نہ انہیں اللہ کا خوف ہے‘ نہ ان کا آخرت پر ایمان ہے اور نہ ہی یہ رسول ﷺ کو ماننے و اتباع کرنے والے ہیں۔
یہ پیدا تو فطرت اسلام  پہ ہوئے تھے۔ جیسا کہ  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’  ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔‘‘
آج مسلمانوں میں بھی یہی ہے۔ پاک دل لے کر فطرت اسلام  پر پیدا ہونے والے بچے کو اس کے والدین شرک و بدعت والا ماحول دیکر اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا کرکے اُس کو فطرت اسلام سے دور کر دیتے ہیں۔
یوں آج کے مسلم ملک‘ معاشرے و گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اکثریت شرک ہی میں مبتلا ہیں۔
اور آج اِس اُمت میں جو سب سے بڑا فساد ہے وہ شرک و بدعات کا فساد ہے۔
جب شرک و بدعات کا فساد آتا ہے تو اس میں دوسرے سارے فسادات خود بخود سر اٹھا لیتے ہیں‘ یقین نہیں تو اقوامِ عالم کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے، نوح علیہ السلام  کی قوم میں میں  بُت پرستی کی ابتداء سے لیکر آج تک جو بھی قوم شرک میں مبتلا ہوئی انہیں فسادات نے جکڑ لیا۔
آج اسلام کی بنیادی عقائد توحید‘ رسالت و آخرت سے ناآشنا مسلمانوں میں نہ ہی اللہ کا خوف ہے اور نہ ہی آخرت میں اُس جبار و قہار کی پکڑ کا کوئی ڈر ہے تو ایسے لوگ دنیا میں فساد  ہی مچائیں گے،  جسے ہم ہر مسلم ملک میں دیکھ رہے ہیں کہ فساد ہی فساد ہے اور امن و امان مفقود ہے۔
حل کیا ہے۔
فسادات کیسے ختم ہوں‘ امن و امان کیسے قائم ہو۔
مسلم ملک و معاشرے میں دہشت گردی نہ ہو‘ مسلمان فساد میں نہ پڑیں‘ مسلمان مسلمان کا خون نہ بہائیں، ایسا کیسے ممکن ہو۔
ان تمام فسادات کا‘ ان تمام برائیوں کا‘ امن و امان بحال کرنے کا حل ایک ہی ہے اور وہ ہے عقائد کی درستگی۔  لوگوں میں اسلام کی بنیادی عقائد توحید‘ رسالت و آخرت کی پختگی کے بغیر امن و امان کا قیام ممکن نہیں۔
جب ہمارے عقائد درست  ہو جائیں گے تو ہمارے دلوں میں اپنے رب کریم کی اہمیت ہوگی ‘ اپنے رب کریم کی محبت ہوگی اور اپنے رب کریم کا خوف ہوگا اور ہم اپنے رب کریم کی نافرمانیوں سے بچتے ہوئے اللہ کی زمین میں کوئی فساد برپا نہیں کریں گے اور ہمارے معاشرے میں امن قائم ہوگا۔
فسادات ختم کرنے اور  امن و امان قائم کرنے کیلئے اتنا یقین ہی کافی ہے کہ اللہ سمیع‘ علیم و بصیر  ہے۔
کیا ہم سب نہیں جانتے کہ
إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
بے شک الله سننے والا جاننے والا ہے۔
إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ   
بیشک اللہ دلوں کی (پوشیدہ) باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
إِنَّ اللَّـهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے ۔
إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
بے شک الله سب کچھ جاننے والا خبردار ہے ۔
جو بندہ اپنی رب کو پہچانتا ہو‘ اپنی رب کی معرفت رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ جس بندے کو یہ یقینِ کامل ہو جائے کہ اس کا رب اس کی ہر بات ‘ ہر سرگوشی کو ہر گھڑی ہر آن  کوئی  سننے و جاننے والا ہے اور خبر  رکھنے والا ہے‘ یہاں تک کہ اس کی دل میں چھپی باتوں کو بھی  وہ خوب جانتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ اس کی ہر چھوٹے بڑے کھلے چھپے عمل کا ریکارڈ بھی  ر کھا جا رہا ہے  بھلا وہ اپنے رب کی دی ہوئی مہلت‘  قدرت و آزادی  سے غفلت  کیوں برت سکتا ہے‘  اپنے رب کی نافرمانی کی باتیں کیسے سونچ سکتا ہے‘  گناہ کرنا تو دور کی بات ہے وہ تو معصیت کی باتوں کو اپنے دل میں جگہ بھی نہیں دے سکتا کیوں کہ اسے معلوم ہے اس کی دل کی  باتیں جاننے والا کسی بھی لمحے اس کی پکڑ کر سکتا ہے اور اس کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ﴿١٢﴾ سورة البروج
یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
اور پھر جس بندے کا عقیدۂ آخرت  پر ایمان اور یقین ہوگا۔
جس کا یقین ہوگا کہ موت کے بعد اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کے اچھے برے اعمال کا حساب لیا جائے گا اور پھر جنت یا جہنم میں ایک ہمیشہ کی زندگی ہے اور جسے دنیا میں عذاب میں مبتلا اپنے جیسے دوسرے بندوں کو  دیکھ کر دنیا سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ بھیانک جہنم کی عذاب کا احساس ہو جائے  اور جس کے دل میں اللہ کی سب سے بڑی نعمت جنت کو حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو جائے،   کیا وہ اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے دنیا میں فساد برپا کرے گا یا امن و امان کا مسٔلہ پیدا کرنے کی کبھی سونچے گا ؟
اور جب عقیدۂ رسالت کا علم ہوگا اور اس بات پر پہختہ ایمان و یقین ہوگا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم کی سچی پیروی کئیے بغیر نہ ہی  ہماری دنیا ہی سنور سکتی ہے اور نہ ہم آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم سے سچی محبت پیدا ہوگی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم  کا اتباع کرنا آسان ہوگا پھرہم بدعات کو چھوڑ کر سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم کی پیروی کرنے والے ہو جائیں گے۔ جب ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم  نے  ہنسی مذاق میں اپنے ساتھی کو پریشان کرنے والے  سے فرمایا :
                  ’’ ایک مسلمان کیلئے حلال نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو مضطرب کرے۔‘‘
یا اونگھتے ہوئے ساتھی کے ایک ترکش مذاقاً اڑا لینے والے سے  فرمایا:
’’ کسی آدمی کیلئے حلال نہیں کہ وہ ایک مسلمان کو پریشان کرے۔‘‘
آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور اسے مومن بھی اسی وجہ سے کہا جا تا ہے کہ وہ امن پسند اور امن دینے والا ہو تا ہے ۔
رسو ل صلی اﷲ علیہ وسلمنے فرماتے ہیں کہ مومن وہ ہے جس کے شر سے لوگ محفوظ رہیں
پیغمبر امن و سلامتی نے فرمایا
جس آدمی نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کیا اس پر اﷲ تعالیٰ کے فرشتے لعنت کرتے ہیں جب تک وہ باز نہیں آتا اس پر لعنت ہوتی رہتی ہے ۔
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جان و مال اور عزت کی حفاظت کے حوالہ سے فرمایا بے شک تمہارے خون ،مال اور عصمت اس طرح حرمت والے ہیں جس طرح یہ دن اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت والا ہے ۔
لہذا آپ ﷺ کو ماننے والا‘ آپ ﷺ پر جا ن نچھاور کرنے والا ‘ آپ ﷺ کی اتباع کرنے والا اور  آپ ﷺ  تعلیمات کوجاننے اور عمل کرنے والا

مسلمان مسلمان کو کیوں کرپریشان کرے گا ؟
مسلمان مسلمان کو کیوں کر قتل کرے گا ؟
مسلمان مسلمان کا چین و سکون کیوں غارت کرے گا ؟
مسلمان مسلمان کا مال ناجائز کیوں ہڑپ کرے گاِ ؟
مسلمان مسلمان کی بہن بہو بیٹی کی عزت کیوں تار تار کرے گا ؟
مسلمان کرپشن  ‘ بد عنوانی و رشوت خوری کیوں کرے گا ؟
مسلمان  چوری، ڈکیتی ‘ قتل و غارت گری کیوں کرے گا ؟
مسلمان  بے حیائی‘ فحاشی، زناکاری، بدکاری وغیرہ کا کام کیوں کر کرے گا ؟

ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہمارے عقائد درست ہو جائیں ‘ ہمارا ایمان و یقین پختہ ہو جائے‘  ہم پورے کے  پورے اسلام میں داخل ہوجائیں‘ اللہ کے فرمانبردار اور نبی صلی اللہ علیہ و آلیہ و سلم   کے اطاعت گزار بن جائیں اور  ہم مسلمان بن کر جینے والے اور مسلمان بن کر مرنے والے بن جائیں۔

آج دنیا کی ترقی یافتہ مغربی ممالک میں جدید ترین کیمرے و سینسر اور راڈار اور تمام جدید ترین وصائل سے مالامال پولس اور سیکوریٹی اہل کاروں کی مدد سے فسادات ختم کرنے کی سعی کرنے کے باوجود وہاں بھی ایسا نہیں کہ ایک اکیلی عورت دور دراز کا سفر کرے اور اسے سوائے اللہ کے خوف کے اور کوئی خوف نہ ہو جب کہ اسلام محض عقائد کی درستگی کی بنیاد پر ایسا امن و امان والا معاشرہ قائم کرکے ثابت کر چکا ہے۔

صحیح بخاری میں عدیؓ بن حاتم کی روایت سے ہے کہ حضورؐ نے فرمایاکہ 
 ’’ بہت جلد امن کا ایسا دوربھی آنے والاہے جب کجاوے میں ایک اکیلی خاتون حیرہ (اعراق ‘ بہت دوردراز علاقہ) سے کعبہ کے طواف کے لئے سفرکرے گی اورمکہ پہنچ کرکعبے کاطواف کرے گی مگراُسے سوائے اللہ کے خوف کے اورکوئی خوف نہ ہوگا۔( عدی کہتے ہیں کہ بعد میں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ایک اکیلی عورت حیرہ  سے آتی ہے ، کعبہ کاطواف کرتی ہے اوراللہ کے سوا اس کوکسی کاڈرنہیں ہوتا) ۔‘‘ (صحیح بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر3595)۔

ماضی کی طرح آج بھی اسلام کی ہی بنیاد پرملک و ملت اور ہر شہر و بستی میں ایسا  امن و امان قائم ہو سکتا ہے کہ ایک اکیلی عورت کو بھی سوائے اللہ کے کسی کا ڈر و خوف نہ ہوگا لیکن اس کیلئے ضروری ہے عقیدے کی اصلاح۔

قوموں کی تاریخ میں ہمیشہ سے سنت اﷲ یہ رہی ہے جب بھی زمین پہ فسادات عروج پہ پہنچی‘ اللہ رب العزت نے ابنیاء علیہ السلاۃ و السلام کے ذریعے اپنے بندوں کی عقیدے کی اصلاح کروایا۔ سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے شروعات میں عقیدے کی اصلاح کوہی اپنی محنت اور کاوشوں کا مرکز بنایا۔ قرآن مجید میں بھی زیادہ تر مضامین عقائد سے متعلق ہیں۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اب کسی نبی کو نہیں بھیجے گا‘ اب یہ کام امت محمدیہ ﷺ کو ہی کرنا ہے۔
لہذا آئیے  عقیدے کی اصلاح سے مسلم  معاشرہ کی  اصلاح کیجئے۔....

Monday, April 14, 2014

Short Cut شارٹ کٹ

ہماری ایک کہاوت ہے کہ ’’ جلدی کا کام شیطان کا “ پھر بھی ہم زندگی کے ہر معاملے میں شارٹ کٹ / جلد بازی پسند کرتے ہیں اور اس  شارٹ کٹ کے چکر میں خاطر خواہ نقصان بھی اُٹھاتے ہیں۔ ہمارے جد امجد حضرت آدمؑ نے بھی اِسی شارٹ کٹ  ( ‎Short Cut)  کے چکر میں نقصان اُٹھایا تھا۔
حضرت آدمؑ  مزے سے جنت کا لباس پہنے ماں حوا کے ساتھ  جنت میں پر لطف زندگی گزار رہے تھے‘ جہاں چاہتے گھومتے پھرتے اور جو چاہتے  کھاتے  پیتے تھے سوا ئے شجرِ ممنوعہ کے ۔
جیسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے:
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ 0  سورة البقرة - 35
اور  ہم  نے  کہہ  دیا  کہ  اے  آدم!  تم  اور  تمہاری  بیوی  جنت  میں  رہو  اور  جہاں  کہیں  سے  چا ہو  بافراغت  کھاؤ   پیو،  لیکن  اس  درخت  کے  قریب  بھی  نہ  جانا   ورنہ  ظالم  ہو جاؤ  گے۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہے:
وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ0 سورة الأعراف-19
اور  اے آدم!  تم  اور  تمہاری  بیوی  جنت  میں  رہو،  جہاں  سے  چا ہو  کھاؤ،  مگر  اس  درخت کے  پاس  مت  جانا  ورنہ ظالموں  میں  سے  ہو جاؤ  گے۔
لیکن انسان  کا ازلی  دشمن ابلیس حضرت  آدم ؑ  اور حضرت حواؑ   کے  دلوں میں شارٹ  کٹ  کی تڑپ پیدا  کی:
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ 0  سورة الأعراف-20
پھر انہیں  شیطان  نے  بہکایا  تاکہ ان  کی  شرم  گاہیں  جو  ایک  دوسرے  سے  چھپائی  گئی  تھیں  ان  کے  سامنے  کھول  دے  اور  کہا  تمہیں  تمہارے  رب  نے  اس  درخت  سے  نہیں  روکا  مگر  اس  لیے  کہ  کہیں  تم  فرشتے  ہو  جاؤ  یا  ہمیشہ  رہنے  والے  ہو  جاؤ۔
ایک اور آیت میں اس شارٹ کٹ کی ترغیب کو یوں فرمایا گیا ہے:
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ 0 سورة طه - 120
لیکن  شیطان  نے  اسے  وسوسہ  ڈاﻻ  کہنے  لگا   "آدم،  بتاؤں  تمہیں  وہ  درخت  جس  سے  ابدی  زندگی  اور  لازوال  سلطنت  حاصل  ہوتی ہے؟"
اور پھر اس شارٹ کٹ سے شارٹ سر کٹ ہو گیا :
فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ    (سورة الأعراف: آیت 22)
پھر  انہیں  دھوکہ  سے  مائل  کر لیا  پھر جب  ان  دونوں  نے  درخت  کو  چکھا  تو  ان  پر  ان  کی  شرم  گاہیں  کھل  گئیں  اور  اپنے  اوپر  بہشت  کے  پتے  جوڑنے  لگے۔
ایک اور جگہ بیان ہوا ہے کہ اس   شارٹ کٹ سے حضرت آدمؑ بھٹک گئے:
فَأَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۚ وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ 0 سورة طه- 121
چنانچہ ان  دونوں  نے  اس  درخت  سے  کچھ  کھا  لیا  پس  ان  کے  ستر  کھل  گئے  اور  اپنے  اوپر  جنت  کے  پتے  چپکا نے  لگے  اور  آدمؑ نے  اپنے  رب  کی  نافرمانی  کی،  پس  بھٹک  گیا۔
اور شیطان کی اس شارٹ کٹ  یعنی فرشتے بننا یا جنت میں ہمیشہ رہنے کی باتیں محض دھوکہ‘ فریب اور جھوٹ کے سوا کچھ نہ تھی۔
وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا 0   سورة الإسراءز- 64
اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں
حضرت آدمؑ  بہشت میں ابدی زندگی کے لئے شیطان کے دھوکے میں آکر شارٹ کٹ اختیار کیا  یعنی  اللہ کی نا فرمانی کی اور راحت و سکون والی جنت سے محنت و مشقت والی  دنیا میں آگئے۔لیکن جوں ہی انہیں  اپنی اس غلطی کا احساس ہوا‘ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے تو اللہ نے بھی نظرِ رحمت کی اور پکارا  :
وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ 0 سورة الأعراف - 22
اور انہیں  ان  کے  رب  نے  پکارا  کیا  میں  نے  تمہیں  اس  درخت سے منع  نہیں  کیا  تھا اور  تمہیں  کہہ  نہ  دیا  تھا  کہ  شیطان  تمہارا  کھلا  دشمن  ہے۔
 
اللہ کی اس پکار پر حضرت آدمؑ  اِبلیس  مردود  کی طرح غرور‘ تکبر اور ہٹ دھرمی نہیں دکھایٴ بلکہ اپنی غلطی کے احساس سے ندامت و شرمساری اور عجز و انکساری کے ساتھ فوراً اپنے رب کی طرف پلٹے:
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ 0  سورة الأعراف-23
ان  دونوں  نے  کہا  اے  رب  ہمارے  ہم  نے  اپنی  جانوں  پر  ظلم  کیا  اور  اگر  تو  ہمیں  نہ  بخشے  گا  اور  ہم  پر  رحم  نہ  کرے  گا  تو  ہم  ضرور  تباہ  ہو جائیں  گے۔
حضرت  آدمؑ  نے  یہ  کلمات  اپنے رب سے  ہی  سیکھے  تھے  :
فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ 0 سورة البقرة - 38
پھر آدمؑ  نے  اپنے  رب  سے  چند  کلمات  سیکھ  کر  توبہ  کی،  جس  کو  اس  کے  رب  نے  قبول  کر لیا،  کیونکہ  وہ  بڑا  معاف  کرنے  والا  اور  رحم  فرمانے  والا  ہے۔
حضرت آدمؑ نے شارٹ کٹ / جلد بازی کے چکر میں جو نافرمانی  کی تھی‘ جب وہ اپنے رب کے طرف پلٹے تو اللہ غفورالرحیم نے اُنہیں معاف کر دیا۔   انسانی فطرت میں شارٹ کٹ / جلد بازی کی منفی وصف اسکی تخلیق کے وقت سے ہی موجود ہے  جب اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ  کے جسم میں روح پھونکا۔ روح سر سے داخل ہویٴ اور آدمؑ کو چھینک آگئی۔
فرشتوں نے کہا کہئے: ’ الحمدللہ ‘
انہوں نے فرمایا:   الحمدللہ  (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہے) ۔
 اللہ نے فرمایا:  رَحِمَکَ رَبُّک (تیرے رب نے تجھ پر رحمت فرمایٴ)۔
 جب روح آنکھوں میں پہنچی آپؑ کو جنت کے پھل نظر آئے‘ پھر جب روح پیٹ میں داخل ہویٴ تو آپؑ کو کھانے کی خواہش پیدا ہویٴ اور آپؑ جلدی سے جنت کے پھلوں کی طرف لپکے جبکہ روح ابھی آپؑ  کی ٹانگوں میں داخل نہین ہویٴ تھی ۔   (تفسیر الطبری‘ تفسیر سورۃ الانبیاء  آیت 37)
اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے:
خُلِقَ  الْإِنسَانُ  مِنْ  عَجَلٍ ۚ  ( سورة الأنبياء -37 )  
انسان جلد باز مخلوق ہے۔
یعنی جلد بازی انسان کی فطرت میں شامل ہے اور شیطان اولادِ آدم کو  اسی  جلد بازی / شارٹ کٹ میں ڈال کر گمراہ کرتا ہے۔
دنیاوی معاملات میں  شیطان  شارٹ کٹ  مالدار بننے / مال کمانے کیلئے   ۔۔۔  مزار بنانا اور مجاور بن کر لوگوں کو قبر والے کی کرامات بتا بتا کر خوب دولت بٹورنا ‘  چوری‘  ڈکیتی  و رہزنی کرنا‘  رشوت خوری و سودخوری سے مال بنانا‘  یتیموں و بیواوٴں کا مال اور  میراث ہڑپ کر نا‘ سرکاری خزانے کو لوٹنا‘  بنک سے بڑے بڑے قرض لے کر نہ دینا ‘  نجی و سرکاری املاک پر   قبضہ کرنا اور اسے کوڑیوں کی  قیمت  بیچ دینا‘ ملاوٹ و چور بازاری اور زخیرہ اندوزی   و    ناپ تول میں کمی کرکے مال بنانا‘ منشیات و اسمگلنگ اور دیگر حرام تجارت سے مال بنانا‘  حکمراں  بن کر عوام  کا  مال  ہڑپ  کرنا اور  زکاۃ  کی  رقم  و  بیت المال پہ  ہاتھ  صاف کرنا‘  منصف  بن  کر  انصاف  کو  بیچنا‘  طبیب  بن  کر  لوگوں  کا مال کیلئے لوگوں کا  خون کرنا‘  محاسب  بن  کر  سرکاری  کھاتے  میں  خرد  برد کرنا‘  سرمایا  داروں  و صنعت  کاروں  کا   مزدورو ں  و  ملازمین  کا  حق  مارنا  وغیرہ  وغیرہ  سکھاتا ہے۔
جبکہ ہمارا رب سکھاتا ہے:
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ 0  سورة البقرة- 188
اور  ایک  دوسرے  کا  مال  ناحق  نہ  کھایا  کرو،  نہ  حاکموں  کو  رشوت  پہنچا  کر  کسی  کا  کچھ  مال  ظلم  وستم   سے  اپنا  کر  لیا  کرو،  حاﻻنکہ  تم  جانتے  ہوز۔
دینی معاملات میں  شیطان جنت کی حصول کا شارٹ کٹ راستہ  دکھاتا ہے۔
پیر صاحب کے ہاتھ پر بیت کرلو‘ پیر صاحب جو منتر کہیں وہ جپتے رہو‘ نہ صوم و صلوۃ کی پابندی نہ حج و زکاۃ کی ضرورت ۔۔۔ پیر صاحب شارٹ کٹ جنت میں پہنچا دیں گیں  ؟؟؟
مزاروں کو چومو‘ چانٹو‘ پھول ڈالو‘ عرق گلاب چھڑکو‘ لوبان و اگربتی جلاوٴ‘ چراغاں کرو‘ چادر چڑھاوٴ  ۔۔۔  مزار والے بابا کو خوش کرو شارٹ کٹ جنت میں  ؟؟؟
مزاروں پہ عرس کرو‘ میلا ٹھیلا لگاوٴ‘  ڈھول تاشے بجاوٴ‘  نشہ کرکے ناچو‘  گاوٴ‘  تالیا و سیٹیاں بجاوٴ اور اخلاق سوز حرکتیں کرو  ۔۔۔  شارٹ کٹ جنت میں  ؟؟؟
رکوع  و  سجدہ  کرو اور اُلٹے قدم چل کر مزار والے مرے ہوئے بابا کی تعظیم بجا لاوٴ ۔۔۔ شارٹ کٹ جنت میں ؟؟؟
مزار پہ چڑھاوا دو‘ بکرا گائے بھینس قربان کرو‘ نظرانہ دے کر مجاور کی مٹھی گرم کرو‘ اور بہت قربت چا ہیئے  تو  اپنی  بیوی‘  بہو‘  بیٹی  کو مجاور  کی  بستر  گرم  کرنے  کیلئے  چھوڑ  دو  اور  مجاور  سے  شارٹ کٹ جنت کا ٹکٹ لے لو  ؟؟؟
اور یہ بھی نہ ہو سکے تو زندگی میں ایک بار پاک پتن کے  بہشتی دروازے سے گزر جاوٴ ۔۔۔۔۔ بس شارٹ کٹ   بہشت میں  ؟؟؟
نہ توحیدِ و شرک کا فرق سمجھنا اور نہ ہی رسالتِ نبوی ﷺ  سے سروکار‘ اولیاوٴں کے کرامات کی کتابیں پڑھنا اور قرآن کو تاک پہ رکھنا‘ نماز و روزے کے قریب بھی نہیں جانا‘ حج و عمرہ بھی مزار پہ‘  قربانی بھی مزار پہ‘  زکاۃ بھی مزار کی نظر  ۔۔۔  اِس سے زیادہ اور کیا   شارٹ کٹ  راستہ دکھائے گا شیطان  ؟؟؟
یہ سارے  شارٹ کٹ تو بہت قدیم ہیں اورمدتوں سے چلے آرہے ہیں۔  اس کے علاوہ  شیطان اللہ کے بندوں کو پھانسنے کیلئے  ہر دور میں نئے نئے  شارٹ کٹ لاتا رہا ہے۔ کبھی اس نے یونانیوں کا فلسفہ لایا  تو  کبھی وحدت لوجود و وحدت الشہود کا فلسفہ اور  کبھی ڈاروین کا نظریہ‘ کبھی کسی کو جھوٹا نبی بنا کر لایا تو کبھی کسی کو مہدی اور شیطان کا اس دور کا شارٹ کٹ ہے ’’ خود کش ‘‘ حملہ۔
مسجد‘ مندر‘ گرجا‘ امام بارگاہ‘ اسکول‘ بازار‘ چوراہے وغیرہ  لوگوں کے جائے اجتماع پہ خود کش جیکٹ پہن کر خود کو اُڑا لو ‘  اور  جتنا زیادہ معصوم و  بیگناہ عورت‘ مرد‘ بچے‘ بوڑھے‘  نوجوانوں کو قتل کر و   منٹوں میں وتنے ہی  جنت کی حوروں کے درمیان پہنچ جاوٴ۔  اس سے بہتر  شارٹ کٹ شیطان اور کہاں سے لائے گا ؟  نہ ہی دنیا کی دکھ درد  و مشقت  اور آزمائش والی  زندگی کے ماہ و  سال گزارنا ‘ نہ ہی قبر میں سوال و جواب کا ڈر‘ نہ ہی طویل برزخی زندگی اور نہ ہی قیامت کی ھولناکیاں۔۔۔ بس منٹوں میں جنت کے مزے اور بیشمار حوریں۔۔۔
یہ  سارے شیطان اور اس کے چیلوں کے بنائے ہوئے شارٹ کٹس  ہیں لیکن جنت کے نہیں جہنم کے اور آج کتنے مسلمان ہیں جو اِن شارٹ کٹ کو اپنائے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم مین جھونک رہے ہیں۔  شیطان ایسا نہیں کہ  گمراہ کرکےبس چھوڑ دے بلکہ وہ آخری سانس تک گمراہ کرتا ہے ارو جہنم کے سب سے نیچلے درجے تک پہنچانے کی سعی بندے کی آخری سانس نکلنے تک کرتا ہے۔. اور اِس کا مشاہدہ ہم سب اکثر ہی کرتے رہتے ہیں کہ جو لو گ گمراہیوں میں پڑجاتے ہیں وہ کیسی کیسی شیطانی افعال سر انجام دیتے ہیں۔ اب اِس خود کش حملے کو ہی لے لیجئے کہ اِس کا اِرتکاب کرنے والے کا مقام کہاں ہوگا ؟
شارٹ کٹ  تو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے راستے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں شارٹ کٹ  ہیں اور جنت کی ابدی زندگی کی شارٹ کٹ بھی ۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ:
ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ نے ایک روز زمین پر ایک سیدھی لکیر کھینچی ، پھر اس کے ارد گرد کچھ چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچی پھر اپنی انگشت مبارک اس سیدھی لکیرپر رکھ کر یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ سورة الأنعام۔  153
اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جومستقیم ہےسو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پرمت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔
 پھر آپ ﷺ نے فرمایا جبکہ آپ ﷺ اپنی انگلی مبارک کو اس خط مستقیم (سیدھی لکیر) پر پھیر رہے تھے:  یہ اللہ کی راہ ہے۔
پھر ان چھوٹی چھوٹی لکیروں کی جانب اشارہ فرمایا جواس خط مستقیم کےاردگرد کھینچی گئی تھیں کہ: اوریہ مختلف راہیں جن میں سے ہر راہ کےاوپر ایک شیطان بیٹھا اپنی طرف لوگوں کودعوت دے رہاہے۔
اس حدیث اور آیتِ قرآنی  کے مطابق اپنے آس پاس اور اپنے معاملات میں گہرا نظر رکھئیے اور دیکھئیے کن کن راستوں پہ شیطان اور اُس کے چیلے بیٹھے ہیں‘ ان راستوں کو چھوڑ کر اللہ کا راستہ جو کہ مستقیم ہے اُس پہ آجائیے۔ سب جانتے ہیں جو سیدھا راستہ ہوتا ہے وہی شارٹ کٹ ہوتا ہے۔